تیل کا عالمی بحران اور ٹرمپ کی ناکام حکمتِ عملی: مارکیٹ کے 'خالی ٹینک' اور ایران کا بڑھتا ہوا سفارتی اثر

خلیج فارس میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو ایک ایسے ہولناک نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں سفارتی بیانات اور مارکیٹ کے زمینی حقائق میں زمین آسمان کا فرق نظر آ رہا ہے۔ ایک طرف جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی کی افواہوں پر مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں معمولی گراوٹ دیکھی گئی، وہیں دوسری طرف جیو-پولیٹکس اور انرجی مارکیٹ کے مایہ ناز ماہر جیف کیوری  نے سنگین وارننگ جاری کر دی ہے۔ ان کے مطابق، ایشیا میں تیل کے ذخائر اپنے کم ترین آپریٹنگ لیول یعنی 'ٹینک کی آخری حد' تک گر چکے ہیں، اور جولائی تک یہی بحران امریکہ کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کاروں کو "جلدی نہ کرنے" کی ہدایت دراصل ایک بہت بڑی تزویراتی غلطی ہے۔ امریکی انتظامیہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ تیل کے گرتے ہوئے عالمی ذخائر کسی بھی معاہدے کے لیے امریکہ کو نہیں، بلکہ ایران کو مضبوط ترین پوزیشن میں کھڑا کر رہے ہیں۔ منڈی میں ایندھن کی اصل دستیابی (molecules) کے بغیر محض سوشل میڈیا پر امن کے دعوے کرنا ایک سنگین سراب ہے، جو عالمی معیشت کو کسی بھی وقت پٹری سے اتار سکتا ہے۔

'ٹینک کی آخری حد': عالمی انوینٹری کے گمراہ کن اعداد و شمار

عالمی میڈیا اور حکومتیں اکثر تیل کے کل ملکی ذخائر کے بڑے بڑے اعداد و شمار دکھا کر عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتی ہیں، لیکن یہ تصویر سراسر گمراہ کن ہے۔ جیف کیوری نے واضح کیا ہے کہ دنیا بھر میں ذخیرہ شدہ تیل کا ایک بہت بڑا حصہ فوری طور پر استعمال کے قابل ہی نہیں ہوتا۔ یہ تیل پائپ لائنوں اور اسٹوریج سسٹمز کو محفوظ طریقے سے چلانے کے لیے ہمیشہ ٹینکوں کے اندر برقرار رکھنا لازمی ہوتا ہے، جسے ٹیکنیکی زبان میں "مینیمم آپریٹنگ لیول" کہا جاتا ہے۔

سنگاپور جیسے بڑے تجارتی مراکز میں یہ حد چھوئی جا چکی ہے، جہاں بحران جٹ فیول سے اب ڈیزل کی شدید قلت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یورپ، جو فی الحال امریکہ کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (SPR) سے آنے والے تیل پر عارضی عیش کر رہا ہے، اگلے ایک ماہ میں اسی قلت کا شکار ہونے والا ہے۔ امریکی سپلائی مستقل نہیں رہ سکتی، اور جیسے ہی جولائی میں امریکہ میں گاڑیوں کی آمدورفت کا سیزن  عروج پر پہنچے گا، واشنگٹن کے پاس اپنے بحران سے نمٹنے کا کوئی متبادل نہیں ہوگا۔

گرتے ہوئے ذخائر اور تہران کا 47 سالہ مضبوط ترین سفارتی موقِف

صدر ٹرمپ کا یہ سمجھنا کہ وہ وقت حاصل کر کے ایران پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں، ان کی سفارتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انرجی مارکیٹ کا بنیادی اصول ہے کہ جب سپلائی کم اور مانگ زیادہ ہو، تو بیچنے والے کا کنٹرول بڑھ جاتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کو جتنا عرصہ گزر رہا ہے، عالمی سطح پر تیل کی انوینٹریز اتنی ہی تیزی سے خالی ہو رہی ہیں۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایران کا مذاکراتی موقِف گزشتہ 47 سالوں میں سب سے زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔ تہران کو اچھی طرح معلوم ہے کہ امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی جولائی اور اگست کے تپتے ہوئے مہینوں میں تیل کی شدید ترین قلت  میں داخل ہونے والے ہیں۔ ایسی حالت میں ٹرمپ کا یہ ٹویٹ کرنا کہ "ہم دباؤ میں نہیں آئیں گے"، محض ایک سیاسی ڈرامہ ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ میز پر پتے اس وقت ایران کے ہاتھ میں ہیں اور وہ اپنی شرائط پر پابندیوں کا خاتمہ کروائے گا۔

ٹیکس چھوٹ اور عارضی اقدامات: امریکی معیشت کا سطحی علاج

امریکی کانگریس اور بعض معاشی ماہرین کی جانب سے یہ تجاویز سامنے آ رہی ہیں کہ گیسولین پر فیڈرل ٹیکس عارضی طور پر معطل کر دیا جائے تاکہ صارفین کو سستا ایندھن مل سکے۔ لیکن یہ اقدامات ایسے ہی ہیں جیسے کینسر کے مریض کو ڈسپرین کی گولی دے دی جائے۔ ٹیکس کم کرنے سے مارکیٹ میں تیل کا ایک بھی نیا قطرہ پیدا نہیں ہوگا۔

بحران کا واحد حل فزیکل تیل کی سپلائی میں اضافہ ہے، جو آبنائے ہرمز کے مکمل اور محفوظ طریقے سے کھلے بغیر ناممکن ہے۔ عالمی انرجی ایجنسی (IEA) کے سربراہ فاتح برول بھی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر مشرقِ وسطیٰ سے سپلائی فوری بحال نہ ہوئی تو گرمیوں میں عالمی انرجی مارکیٹ کریش کر جائے گی۔ امریکی انتظامیہ کا سطحی پالیسیوں پر انحصار کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ اس بحران کی گہرائی کو سمجھنے سے قاصر ہے۔

شپنگ انڈسٹری کی ہچکچاہٹ اور طویل مدتی سپلائی چین کی تباہی

اگر بالفرض آنے والے چند دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا بھی جاتا ہے، اور آبنائے ہرمز کو کھول دیا جاتا ہے، تب بھی عالمی معیشت فوری طور پر معمول پر نہیں آ سکے گی۔ بحری تجارت کے ماہرین کے مطابق، عالمی شپنگ انڈسٹری راتوں رات اپنے پرانے روٹس پر واپس نہیں آئے گی کیونکہ انشورنس کمپنیاں اور مال بردار کمپنیاں اس عارضی امن پر فوری بھروسہ کرنے میں شدید ہچکچاہٹ کا شکار ہوں گی۔

میسک (Maersk) جیسی بڑی کمپنیوں کے سابق عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سپلائی چین کو دوبارہ اسی حالت میں لانے کے لیے کئی مہینے درکار ہوں گے جس حالت میں وہ فروری میں جنگ کے آغاز سے پہلے تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آج معاہدہ ہو بھی جائے، تو اس کے مثبت معاشی اثرات ستمبر یا اکتوبر سے پہلے نظر نہیں آئیں گے۔ ٹرمپ کی تاخیری حربوں پر مبنی سیاست اس بحالی کے عمل کو مزید طویل کر رہی ہے۔

نتیجہ: توانائی کے آزادانہ متبادل اور پاکستان کے لیے سبق

یہ عالمی بحران پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے۔ جب دنیا کے امیر ترین خطے (ایشیا اور یورپ) تیل کی بوند بوند کو ترس رہے ہوں، تو پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو اپنی توانائی کا زیادہ تر حصہ امپورٹ کرتا ہے، یہ وقت اپنی بقا کی جنگ لڑنے کا ہے۔

ہمیں واشنگٹن یا خلیج کے بحری راستوں پر انحصار کم سے کم کرنا ہوگا۔ پاکستان کے لیے آگے کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ شمسی توانائی جیسے مقامی اور قابلِ تجدید ذرائع پر ہنگامی بنیادوں پر شفٹ ہو، اور ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن جیسے براہِ راست زمینی منصوبوں کو امریکی پابندیوں کی پرواہ کیے بغیر مکمل کرے۔ عالمی توانائی کا یہ ڈھانچہ اب ناقابلِ بھروسہ ہو چکا ہے، اور جو ملک وقت رہتے ہوئے اپنے متبادل کا بندوبست نہیں کرے گا، وہ اندھیروں میں ڈوب جائے گا۔

تیل کے عالمی بحران کے حوالے سے اہم سوالات

جیف کیوری کی 'ٹینک باٹمز' (Tank Bottoms) سے کیا مراد ہے؟

اس سے مراد تیل کا وہ کم ترین ذخیرہ ہے جو کسی بھی ملک کے اسٹوریج سسٹم اور پائپ لائنوں کو تکنیکی طور پر چالو رکھنے کے لیے ٹینکوں میں موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے گرنے کا مطلب یہ ہے کہ مارکیٹ کے لیے اب مزید تیل دستیاب نہیں ہے۔

کیا ایران-امریکہ معاہدے کی خبروں سے تیل مستقل سستا ہوگا؟

جی نہیں، یہ کمی محض نفسیاتی اور عارضی ہے۔ جب تک آبنائے ہرمز سے فزیکل تیل کی سپلائی بحال نہیں ہوتی اور گرتے ہوئے عالمی ذخائر دوبارہ نہیں بھرتے، قیمتوں میں استحکام ممکن نہیں ہے۔

جولائی میں امریکہ کو کس بڑے خطرے کا سامنا ہے؟

جولائی میں امریکہ میں گرمیوں کا ڈرائیونگ سیزن شروع ہوتا ہے جہاں ایندھن کی مانگ عروج پر ہوتی ہے۔ موجودہ قلت کے باعث جولائی میں امریکہ کو ہسٹوریکل فیول شارٹیج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تیل کے ذخائر گرنے سے ایران کا موقِف کیسے مضبوط ہو رہا ہے؟

دنیا کے پاس تیل جتنا کم ہوگا، امریکہ پر آبنائے ہرمز کھلوانے کا دباؤ اتنا ہی بڑھے گا۔ اس وجہ سے ایران مذاکراتی میز پر اپنی تمام سخت شرائط، بشمول پابندیوں کے مکمل خاتمے، منوانے کی پوزیشن میں آ گیا ہے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پاکستان کے کتنے صوبے ہیں؟

وقتی سفارت کاری تماشاخانہ بن جائے: کیا پاک-امریکہ تعلقات ایران جنگ کے نئے مرحلے کی نذر ہونے والے ہیں؟

بہاولپور کے 10 بہترین اسکول برائے معیاری تعلیم