وقتی سفارت کاری تماشاخانہ بن جائے: کیا پاک-امریکہ تعلقات ایران جنگ کے نئے مرحلے کی نذر ہونے والے ہیں؟
خلیج فارس کے تپتے ہوئے پانیوں اور واشنگٹن کے بند کمروں سے نکلنے والی خبریں عالمی میڈیا کے لیے محض سرخیاں ہو سکتی ہیں، لیکن پاکستان کے لیے یہ بقا اور قومی سلامتی کا ایک ایسا سنگین امتحان ہے جس پر ہمارے مقتدر حلقوں کی خاموشی مجرمانہ ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے معاہدے کی جلد بازی میں کی جانے والی نوید اور ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی کی محتاط تردید نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ نام نہاد امن ڈیل دراصل ایک عارضی جنگ بندی کے علاوہ کچھ نہیں، جس کا سب سے بڑا دباؤ اب براہِ راست پاکستان کی مغربی سرحدوں اور اسٹریٹجک پوزیشن پر پڑنے والا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آپریشن ایپک فیوری کے ذریعے ایران کے ساحلوں کی ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو بند کرنے کے بعد، اب واشنگٹن اپنے تجارتی مفادات کے لیے ایک ایسے عارضی سمجھوتے کی طرف بھاگ رہا ہے جو خطے میں مستقل امن لانے کے بجائے پاکستان جیسے پڑوسی ممالک کو ایک طویل مدتی اقتصادی دلدل میں دھکیل دے گا۔ اس موقع پر ایک متبادل اور گہرائی پر مبنی تجزیہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور گوادر پورٹ کا اسٹریٹجک متبادل
جب ایران نے فروری کے فضائی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کر کے دنیا کے 20 فیصد تیل کی سپلائی روک دی، تو واشنگٹن کی معیشت ہچکولے کھانے لگی۔ لیکن اس بحران کا ایک ایسا رخ بھی ہے جسے عالمی میڈیا جان بوجھ کر نظرانداز کر رہا ہے: پاکستان کی گوادر بندرگاہ کا جیو-پولیٹیکل کردار۔
سیکیورٹی اور بحری راستوں کے نقشے پر اگر نظر دوڑائی جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش نے بیجنگ اور اسلام آباد کو خلیج کے متبادل تجارتی راستوں پر کنٹرول کا ایک سنہری موقع فراہم کیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر لگائی گئی سخت ناکہ بندی دراصل اس چینی اثر و رسوخ کو روکنے کی بھی ایک کوشش تھی جو سی پیک (CPEC) کے ذریعے اس خطے میں جڑیں پکڑ چکا ہے۔ اگر موجودہ 60 روزہ عارضی معاہدے کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولتا ہے، تو یہ امریکی بحریہ کو اس خطے میں دوبارہ مستقل پوزیشننگ کا موقع دے گا، جو طویل مدتی بنیادوں پر پاکستان کے بحری مفادات کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو سکتا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی روپوشی اور پاک-ایران سرحد پر سیکیورٹی کے نئے خطرات
امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی یہ رپورٹ کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے کے بعد کسی نامعلوم مقام پر روپوش ہیں، تہران کی اندرونی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ لیکن ایک کمزور اور قیادت سے محروم ایران پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور سرحدی علاقوں کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی رسک بن چکا ہے۔
جب ایران میں فیصلہ سازی کا عمل سست پڑتا ہے، تو سرحدی علاقوں میں عسکریت پسند تنظیموں اور اسمگلنگ مافیا کو کھلی چھوٹ مل جاتی ہے۔ عارضی جنگ بندی کے اس دور میں جب تک تہران میں اقتدار کا ڈھانچہ مستحکم نہیں ہوتا، پاک-ایران سرحد پر سیکیورٹی کے اخراجات اور خطرات دگنے رہیں گے۔ ٹرمپ الیون کے سینیٹرز جیسے لنڈسے گراہم کا یہ کہنا کہ یہ ڈیل ایران کو خطے میں مضبوط چھوڑ دے گی حقیقت کے برعکس ہے؛ اصل خطرہ ایران کا مضبوط ہونا نہیں، بلکہ اس کا اس حد تک کمزور ہونا ہے کہ اس کے سرحدی کنٹرول شیرازہ ہو جائیں اور اس کا براہِ راست خمیازہ پاکستان کو بھگتنا پڑے۔
ڈالر کی قیمت میں عارضی گراوٹ اور روپے پر پڑنے والے دور رس اثرات
ہفتے کے آغاز پر جیسے ہی امریکی-ایرانی مذاکرات کی خبریں مارکیٹ میں آئیں، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی دیکھی گئی اور ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی آئی۔ بظاہر یہ پاکستان جیسے درآمدی ملک کے لیے ایک اچھی خبر لگتی ہے، لیکن ماہرینِ معیشت اس عارضی ریلیف کو ایک سراب قرار دے رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایرانی تیل کے فنڈز کو منجمد رکھنے اور پابندیوں کے خاتمے کو مستقبل پر ٹالنے کی پالیسی کا مطلب یہ ہے کہ مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کا یہ اتار چڑھاؤ مستقل نہیں ہے۔ پاکستان جیسے ممالک جو پہلے ہی آئی ایم ایف (IMF) کے پروگراموں اور توانائی کے شدید بحران کا شکار ہیں، اس عارضی ڈیل کی وجہ سے اپنی طویل مدتی توانائی کی پالیسیوں کو درست طریقے سے مرتب نہیں کر پائیں گے۔ تیل کی قیمتوں میں یہ عارضی گراوٹ چند ہفتوں بعد ایک نئے اور بڑے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے جب یہ 60 روزہ مہم ختم ہوگی اور مذاکرات دوبارہ ناکام ہوں گے۔
امریکی ریپبلکن پارٹی کا اندرونی اختلاف اور ٹرمپ کی سستی سفارت کاری
اس پورے منظر نامے کا سب سے عبرت ناک پہلو صدر ٹرمپ کی وہ ٹروتھ سوشل پوسٹس ہیں جن میں انہوں نے اپنی ہی پارٹی کے سینیٹرز، جیسے ٹیڈ کروز اور راجر وکر کو لوزر قرار دیا جو اس ڈیل کو ایک فاش غلطی کہہ رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ معاہدہ کسی نظریاتی یا تزویراتی امن کے لیے نہیں، بلکہ ٹرمپ کی اپنی ذاتی سیاسی ساکھ کو بچانے کی ایک سستی کوشش ہے۔
جب ایک عالمی سپر پاور کی خارجہ پالیسی سستی سوشل میڈیا جنگ اور ذاتی انا کی بنیاد پر چل رہی ہو، تو پاکستان جیسے اتحادی ممالک کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ وہ خلیجی ممالک کے کہنے پر حملے روک رہے ہیں، یہ ظاہر کرتا ہے کہ خطے کے چھوٹے ممالک کی سیکیورٹی کو عرب ریاستوں کے مالیاتی مفادات کے تحفظ کے لیے قربان کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کو اس مرحلے پر واشنگٹن کے لو اور مائنس کے جال سے نکل کر ایک آزادانہ سفارتی موقف اپنانا ہوگا۔
پاکستان کے لیے آگے کا راستہ: غیر جانبداری یا اسٹریٹجک تنہائی؟
یہ عارضی امن ڈیل اگر آنے والے دنوں میں دستخط ہو بھی جاتی ہے، تو یہ خطے کے بنیادی مسائل کا حل نہیں ہے۔ پاکستان کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ کی پالیسیاں صرف اور صرف اسرائیل کے تحفظ اور تیل کی سپلائی چین کو برقرار رکھنے کے گرد گھومتی ہیں۔
موجودہ صورتحال میں پاکستان کے لیے واحد محفوظ راستہ یہ ہے کہ وہ اس امریکی-ایرانی جنگ میں مکمل طور پر غیر جانبدار رہے اور تہران کے ساتھ اپنے گیس پائپ لائن منصوبوں اور سرحدی تجارت کو امریکی پابندیوں کے دباؤ میں آئے بغیر جاری رکھے۔ اگر اسلام آباد نے اب بھی واشنگٹن کی عارضی سفارت کاری کے اشاروں پر ناچنا بند نہ کیا، تو ہم نہ صرف ایک اہم پڑوسی ملک کا اعتماد کھو دیں گے بلکہ بیجنگ کے ساتھ اپنے تزویراتی تعلقات کو بھی داؤ پر لگا دیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کا رخ خود متعین کرے۔
ایران-امریکہ مذاکرات کے حوالے سے اہم سوالات
کیا آبنائے ہرمز کے کھلنے سے پاکستان کی معیشت کو فائدہ ہوگا؟
فوری طور پر تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی سے پاکستان کا امپورٹ بل کم ہوگا، لیکن چونکہ یہ ایک عارضی 60 روزہ انتظام ہے، اس لیے طویل مدتی بنیادوں پر مارکیٹ میں عدم استحکام برقرار رہے گا جس سے روپے پر دباؤ کم نہیں ہوگا۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی روپوشی کا پاکستان پر کیا اثر پڑے گا؟
ایرانی قیادت کی عدم موجودگی سے سرحدی سیکیورٹی کے معاملات بالخصوص بلوچستان کی سرحد پر عسکریت پسندی اور پیٹرول کی اسمگلنگ کے خلاف آپریشنز سست پڑ سکتے ہیں، جو پاکستان کے لیے داخلی سیکیورٹی کا مسئلہ بن سکتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ اس ڈیل کے لیے اتنی جلدی میں کیوں ہے؟
صدر ٹرمپ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کر کے امریکی عوام کو فوری ریلیف دینا چاہتے ہیں اور اپنی سیاسی مقبولیت برقرار رکھنے کے لیے ایک بڑے جیو-پولیٹیکل بحران کو عارضی طور پر ٹالنا چاہتے ہیں۔
کیا پاکستان اس بحران میں کوئی سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے؟
پاکستان، چین کے ساتھ مل کر ایران اور خطے کی دیگر قوتوں کے درمیان ایک متبادل علاقائی سیکیورٹی ڈائیلاگ کا آغاز کر سکتا ہے تاکہ مغربی طاقتوں کی مداخلت کے بغیر مستقل امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں