مغربی دنیا جیوپولیٹیکل انفارمیشن وار میں کیوں ہار رہی ہے؟
فرانسیسی عسکری معلومات کے سابق سربراہ کے وائرل ہونے والے حالیہ بیان نے جدید عالمی سیاست کا ایک تلخ سچ بے نقاب کر دیا ہے: قومی سلامتی کی روایتی سرحدیں اب ختم ہو چکی ہیں۔ جب ایک اعلیٰ امن و امان کے عہدیدار قطر اور ترکی کے ساتھ ساتھ لندن کو بھی نظریاتی انتہا پسندی کا بڑا مرکز قرار دیتا ہے، تو اسے محض ایک سیاسی بیان سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اس سچائی کی طرف اشارہ ہے جسے مغربی قیادت تسلیم کرنے سے کتراتی ہے: یورپی دارالحکومت اب خود مغربی جمہوری اقدار کو کمزور کرنے والے نظریات کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔ ریاستی استحکام کی یہ جنگ اب دور دراز کے صحراؤں میں نہیں، بلکہ یورپ کے اپنے ذرائع ابلاغ، یونیورسٹیوں اور مقامی برادریوں کے اندر لڑی جا رہی ہے۔ Former Director of France’s Military Intelligence: “There are 3 centers of Muslim terrorism: Qatar, Turkey and London” pic.twitter.com/WQopqkSXTV — Tommy Robinson 🇬🇧 (@TRobinsonNewEra) May 21, 2026 فرانسیسی عسکری معلومات کی رپورٹ ہمیں انتہا پسندی کے مراکز کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟ کئی دہائیوں تک مغربی حفاظتی ادارے اس مفروضے پر ...