یو اے ای انڈسٹری 4.0: پپسی اور 5G کا یہ جوڑ فیکٹریوں کو کیسے بدلے گا؟
پپسی کو یو اے ای کا صنعتی پارٹنر کیوں بنا؟
ایک ایسے برانڈ کا نام سن کر جس کی مصنوعات ہر گھر اور دکان میں نظر آتی ہیں، عام صارف کے ذہن میں پہلا سوال یہی ابھرتا ہے کہ ایک سافٹ ڈرنک بنانے والی کمپنی کا صنعتی مینوفیکچرنگ سے کیا تعلق؟ میری رائے میں، وزارت صنعت اور جدید ٹیکنالوجی (MoIAT) کے ساتھ پپسی کو کی شراکت داری محض ایک تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ مقامی پیداوار کو محفوظ بنانے کی ایک تزویراتی چال ہے۔
پپسی کو نے فیوچر انڈسٹریز لیب کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے درجے کے مقامی کاروباروں (SMEs) اور نوجوان اماراتی ہنر مندوں کو سپورٹ کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ملکی سطح پر اشیاء خوردونوش کی مینوفیکچرنگ کو اس حد تک خودکفیل کیا جائے کہ بیرونی سپلائی چین پر انحصار ختم ہو جائے۔ یہ حکمت عملی واضح کرتی ہے کہ عالمی برانڈز اب یو اے ای کو صرف ایک مارکیٹ نہیں بلکہ ایک پیداواری مرکز کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
ڈو کمپنی فیکٹریوں کو سمارٹ اور خودکار کیسے بنا رہی ہے؟
صنعتی ترقی کے اس سفر میں ٹیلی کام انفراسٹرکچر ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ میک اٹ ان دی ایمریٹس سمٹ کے دوران، معروف ڈیجیٹل کمپنی 'du' نے وزارت صنعت (MoIAT) کے ساتھ ان-کنٹری ویلیو (ICV) پروگرام میں شمولیت اختیار کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔
میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ 'duTech' کے ذریعے متعارف کروائے جانے والے 5G نیٹ ورکس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) کے حل اب فیکٹریوں کے کام کرنے کا انداز بدل دیں گے۔ جب ایک فیکٹری 5G کے ذریعے خودکار روبوٹس اور ریئل ٹائم ڈیٹا مانیٹرنگ کا استعمال کرتی ہے، تو پیداواری لاگت میں نمایاں کمی اور کارکردگی میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔ ڈو کا مقامی سپلائرز کو ترجیح دینا اور معیشت میں 473 ارب درہم سے زائد کی رقم کو دوبارہ گردش میں لانے میں مدد کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ کو کس طرح طاقتور بنا رہی ہے۔
میک اٹ ان دی ایمریٹس (MIITE) نمائش کے معاشی اثرات کیا ہیں؟
میرا ماننا ہے کہ MIITE نمائش صرف ایک سالانہ تقریب نہیں ہے، بلکہ یہ امارات کی مستقبل کی معاشی خودمختاری کا ایک عملی نمونہ ہے۔ اس پلیٹ فارم نے نہ صرف بڑے کارپوریٹ اداروں کو بلکہ مقامی ہنر مندوں کو بھی مینوفیکچرنگ ماڈلز کا حصہ بنایا ہے۔
اس نمائش کا سب سے بڑا معاشی فائدہ یہ ہے کہ یہ بیرونی سرمایہ کاری کو براہ راست ملک کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کی طرف راغب کر رہی ہے۔ جب ڈو اور پپسی کو جیسے بڑے نام انڈسٹری 4.0 کو اپناتے ہیں، تو اس سے دیگر بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوتا ہے، جس سے مقامی روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور ملک کا برآمداتی گراف اوپر جاتا ہے۔
امارات گروتھ فنڈ نئے کاروباروں کی مالی معاونت کیسے کرے گا؟
صنعتی انقلاب اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) کو سرمایہ فراہم نہ کیا جائے۔ اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے MoIAT اور امارات ڈویلپمنٹ بینک (EDB) نے مشترکہ طور پر 1 ارب درہم کا امارات گروتھ فنڈ (Emirates Growth Fund) متعارف کروایا ہے۔ [انٹرنل لنک: امارات کے نئے فنڈز کی تفصیل]۔
یہ فنڈ دراصل نیشنل انڈسٹریل ریزیلینس فنڈ (NIRF) کا حصہ ہے، جس کا بنیادی مقصد نئے اور ابھرتے ہوئے مینوفیکچررز اور ہائی ٹیک اسککیل اپس کو سستی مالیاتی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ میری نظر میں یہ اقدام اس بات کی ضمانت ہے کہ یو اے ای کی صنعتی ترقی صرف چند بڑے اداروں تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ نچلی سطح پر موجود ہر اختراع کار اور صنعت کار کو آگے بڑھنے کے مساوی مواقع ملیں گے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)
کیا متحدہ عرب امارات میں انڈسٹری 4.0 حقیقت بن چکی ہے؟
جی ہاں، یو اے ای میں انڈسٹری 4.0 اب ایک حقیقت بن چکی ہے۔ 'du' کی طرف سے سمارٹ فیکٹریوں کے لیے 5G اور IoT انفراسٹرکچر کی فراہمی اور پپسی کو جیسی کمپنیوں کا مقامی مینوفیکچرنگ کو اپنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اماراتی کارخانوں میں جدید ترین آٹومیشن نافذ ہو چکی ہے۔
پپسی کو اور یو اے ای کی وزارت صنعت کے درمیان معاہدے کا اصل مقصد کیا ہے؟
اس شراکت داری کا بنیادی مقصد "فیوچر انڈسٹریز لیب" کے تحت مقامی چھوٹے کاروباروں (SMEs) کو فروغ دینا اور نوجوان اماراتی صلاحیتوں کو صنعتی شعبے میں آگے لانا ہے، تاکہ اشیاء خوردونوش کی مقامی پیداوار کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بڑھایا جا سکے۔
ان-کنٹری ویلیو (ICV) پروگرام سے عام معیشت کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟
آئی سی وی (ICV) پروگرام سرکاری اور نجی شعبے کے ٹینڈرز اور خریداری کے مواقع مقامی کمپنیوں اور سپلائرز کی طرف موڑتا ہے۔ اس پروگرام کے آغاز سے اب تک 473 ارب درہم سے زائد کی خطیر رقم دوبارہ یو اے ای کی قومی معیشت میں منتقل کی جا چکی ہے۔
امارات گروتھ فنڈ کس کے لیے بنایا گیا ہے اور اس کا بجٹ کتنا ہے؟
امارات گروتھ فنڈ کا کل بجٹ 1 ارب درہم ہے اور یہ خاص طور پر صنعتی شعبے سے وابستہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) اور نئے اسٹارٹ اپس کی مالی معاونت اور انہیں جدید بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں