سعودی عرب اور یورپی یونین: بدلتی دنیا میں تزویراتی شراکت داری کی اہمیت
ریاض: سعودی عرب میں یورپی یونین کے سفیر کرسٹوف فارناڈ نے کہا ہے کہ آج کی دنیا ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے جہاں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں شراکت داری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریاض کے سفارتی کوارٹر میں 'یورپ ڈے' کی مناسبت سے منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران کیا۔
یورپ ڈے کی اہمیت اور شومن اعلامیہ
یورپ ڈے ہر سال 9 مئی کو 1950 کے 'شومن اعلامیہ' (Schuman Declaration) کی یاد میں منایا جاتا ہے، جس نے موجودہ یورپی یونین کی بنیاد رکھی تھی۔ اس سال ریاض میں ہونے والی تقریب میں سعودی نائب وزیر خارجہ برائے پروٹوکول امور عبدالمجید السماری سمیت اعلیٰ حکام اور سفارت کاروں نے شرکت کی۔
عالمی چیلنجز اور مشترکہ حکمت عملی
سفیر فارناڈ نے 'عرب نیوز' سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ موجودہ دور کے بحران، خاص طور پر ایرانی بحران، محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی چیلنجز کا پیش خیمہ ہیں جو توانائی کی منڈیوں اور عالمی معیشت پر اثر انداز ہوں گے۔ انہوں نے درج ذیل اہم نکات پر زور دیا:
ٹیکنالوجی کا انقلاب: مصنوعی ذہانت (AI)، کوانٹم کمپیوٹنگ اور بائیو ٹیکنالوجی معیشتوں کو بدل رہی ہیں۔
سلامتی اور خود مختاری: یورپ اپنی فوجی تیاری، توانائی کی خودمختاری اور مسابقت کو بہتر بنانے پر کام کر رہا ہے۔
سعودی ویژن 2030: سفیر نے سعودی ویژن 2030 کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر ہم مل کر کام کریں تو یہ کامیابیاں مزید شاندار ہوں گی۔
معاشی تعلقات کے اعداد و شمار
سعودی عرب اور یورپی یونین کے درمیان معاشی روابط انتہائی گہرے ہو چکے ہیں:
تجارت کا حجم: 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق دونوں کے درمیان اشیاء اور خدمات کی تجارت کا حجم 90 بلین یورو تک پہنچ چکا ہے۔
یورپی کمپنیاں: اس وقت 2,500 سے زائد یورپی کمپنیاں سعودی مارکیٹ میں سرگرم عمل ہیں۔
اہم شراکت دار: یورپی یونین، سعودی عرب کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار بن چکا ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل
کرسٹوف فارناڈ کے مطابق، اکتوبر 2021 میں طے پانے والے تعاون کے معاہدے نے دونوں فریقین کے درمیان سیاسی اور تکنیکی مکالمے کے لیے ایک رسمی فریم ورک فراہم کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امن اور استحکام، توانائی کی سلامتی، سمندری تحفظ اور عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے سعودی-یورپی شراکت داری ناگزیر ہے۔
تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ تنہائی اور تصادم کے بجائے تعاون اور گہری شراکت داری ہی ایک بہتر اور مستحکم دنیا کی تعمیر کا واحد راستہ ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں