اسلام آباد میں ٹرمپ کا ایران ڈیل الٹی میٹم: امن کی دستک یا جنگ کی دھمکی؟
آج عالمی سیاست اس وقت لرز اٹھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ آج ہی اسلام آباد میں طے پا جائے گا۔ لیکن اس سفارتی پیشرفت سے زیادہ جس چیز نے دنیا کو حیران کیا، وہ ٹرمپ کا وہ خوفناک لہجہ تھا جس میں انہوں نے دھمکی دی کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران کے ایک ایک پاور پلانٹ اور پل کو اڑا دیں گے۔ میرے نزدیک، یہ آرٹ آف دی ڈیل نہیں بلکہ ایک خطرناک جواء ہے جو پورے خطے کو آگ کے دہانے پر لا کھڑا کر سکتا ہے۔
کیا ٹرمپ کا اسلام آباد میں ایران ڈیل کا دعویٰ حقیقت پسندانہ ہے؟
پاکستان کی سرزمین پر ہونے والے ان مذاکرات میں نائب صدر جے ڈی وینس، جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف جیسے بڑے ناموں کی شمولیت ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ اس معاملے کو جلد از جلد حل کرنا چاہتا ہے۔ تاہم، جب ایک طرف ٹرمپ آج دستخط ہونے کی بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف تہران مکمل خاموش ہے، تو یہ صورتحال شکوک و شبہات پیدا کرتی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ایران کو دھمکیوں کے ذریعے میز پر لانا شاید عارضی طور پر کام کر جائے، لیکن اس طرح کے دباؤ میں کیے گئے معاہدے دیرپا ثابت نہیں ہوتے۔ایران کے انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کی دھمکی کے اثرات
صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی بین الاقوامی سفارتی آداب کے منافی ہے۔ یہ محض میکسیمم پریشر (زیادہ سے زیادہ دباؤ) کی پالیسی نہیں بلکہ ایک کھلی جارحیت ہے۔ اگر ایران یہ محسوس کرتا ہے کہ اسے ذلیل کر کے معاہدے پر مجبور کیا جا رہا ہے، تو وہ اپنی بقاء کی خاطر مزید سخت گیر موقف اختیار کر سکتا ہے۔ اس طرح کا لہجہ سفارت کاری کے دروازے کھولنے کے بجائے انہیں ہمیشہ کے لیے بند بھی کر سکتا ہے۔پاکستان کا بطور ثالث کردار اور علاقائی چیلنجز
پاکستان نے اپریل 2026 کے آغاز میں امریکہ اور ایران کے درمیان 1979 کے بعد پہلے براہ راست رابطے کی میزبانی کر کے ایک بڑی کامیابی حاصل کی تھی۔ اب دوبارہ اسلام آباد کا مرکزِ نگاہ بننا پاکستان کی عالمی ساکھ کے لیے اہم ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس شدید تناؤ کو سنبھال پائے گا؟ پاکستان کے لیے یہ ایک کٹھن راستہ ہے جہاں اسے ایک طرف واشنگٹن کی خوشنودی چاہیے اور دوسری طرف اپنے پڑوسی ملک ایران کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنا ہے۔🔴 امریکی اعلیٰ عہدیدار:
— RTEUrdu (@RTEUrdu) April 20, 2026
ہم نہیں جانتے کہ ایران میں کون اقتدار میں ہے، اور وہ خود بھی نہیں جانتے۔ اس مسئلے کا حل نکالنا ضروری ہے۔
• ایکسیوس pic.twitter.com/rpcuhNhMS2
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں