عالمی سیاست میں پاکستان ایک بار پھر ایک اہم ترین سفارتی موڑ پر کھڑا ہے۔ مارچ 2026 میں اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ اجلاس، جس میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی، اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان خطے میں جاری پاک-ایران اور امریکہ-ایران کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سفارتی مشن کا بنیادی مقصد صرف جنگ کو روکنا نہیں بلکہ عالمی معیشت کو اس ممکنہ تباہی سے بچانا ہے جو ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست تصادم کی صورت میں پیدا ہو سکتی ہے۔
اسلام آباد ٹریک: عالمی سفارت کاری کا نیا مرکز
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اسلام آباد ٹریک اب ایک کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کی بحالی میں تاریخی کردار ادا کیا تھا، اور اب 2026 میں ایک بار پھر واشنگٹن اور تہران کے درمیان بیک چینل رابطوں کا مرکز بن گیا ہے۔ اس اقدام کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں جبکہ امریکہ کے ساتھ اس کے طویل المدتی سٹریٹجک روابط قائم ہیں۔
ٹرمپ کا 15 نکاتی منصوبہ اور تہران کا سخت موقف
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی نمائندوں کے ذریعے تہران تک ایک 15 نکاتی منصوبہ پہنچایا ہے، جس میں یورینیم کی افزودگی روکنے اور علاقائی گروہوں کی حمایت ختم کرنے جیسے مطالبات شامل ہیں۔ تاہم، تہران کی جانب سے اب تک ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ ایرانی حکام ان مطالبات کو غیر حقیقی قرار دے رہے ہیں، جبکہ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ مذاکرات درست سمت میں جا رہے ہیں۔ پاکستان کی ثالثی کا اصل امتحان ان دونوں متضاد موقف کے درمیان کوئی درمیانی راستہ نکالنا ہے۔
چار ملکی کمیٹی: علاقائی اتحاد کی ایک نئی مثال
پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر نے مل کر ایک
کمیٹی آف فور تشکیل دی ہے۔ یہ محض ایک مشاورتی گروپ نہیں بلکہ ایک منظم سفارتی ڈھانچہ ہے جو براہِ راست مذاکرات کے لیے ماحول سازگار بنا رہا ہے۔ سعودی عرب اور مصر جیسی بڑی عرب قوتوں کی اس عمل میں شمولیت سے ایران کو یہ پیغام ملا ہے کہ پورا اسلامی بلاک امن کا خواہاں ہے، جس سے تہران کے لیے مذاکرات کی میز پر آنا آسان ہو گیا ہے۔
آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی کا بحران
عالمی معیشت کے لیے سب سے بڑا خطرہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بندش ہے۔ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کے نتیجے میں ایران نے حال ہی میں 20 پاکستانی بحری جہازوں کو راستہ دینے پر اتفاق کیا ہے، جسے ایک بڑی اعتماد سازی کی علامت (CBM) سمجھا جا رہا ہے۔ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو خام تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، جو عالمی سطح پر مہنگائی کا ایک نیا طوفان کھڑا کر دے گی۔
اسرائیلی مداخلت اور سفارتی رکاوٹیں
جہاں پاکستان امن کے لیے کوشاں ہے، وہیں اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلسل حملے اس عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش معلوم ہوتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی سفیر کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ اسرائیل ان مذاکرات کا حصہ نہیں ہے۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ امریکہ کو اس بات پر آمادہ کرے کہ اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی مہم جوئی اس امن مشن کو مکمل طور پر تباہ کر سکتی ہے۔
6 اپریل کی ڈیڈ لائن: کیا امن کا کوئی امکان ہے؟
صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی 6 اپریل کی ڈیڈ لائن سر پر کھڑی ہے۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای کے درمیان ہونے والی ملاقاتیں ظاہر کرتی ہیں کہ بیجنگ بھی
اسلام آباد کی ان کوششوں کی مکمل حمایت کر رہا ہے۔ اگر پاکستان اس ڈیڈ لائن سے پہلے فریقین کو ایک عبوری فائر بندی پر راضی کر لیتا ہے، تو یہ 21 ویں صدی کی سب سے بڑی سفارتی فتح کہلائے گی۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)
کیا پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ رکوا سکتا ہے؟
پاکستان تنہا جنگ نہیں رکوا سکتا، لیکن وہ ایک ایسے معتبر ثالث کے طور پر ابھرا ہے جس پر واشنگٹن اور تہران دونوں اعتماد کرتے ہیں۔ پاکستان کی کوششوں سے قائم ہونے والی چار ملکی کمیٹی اس وقت امن کا واحد راستہ دکھائی دیتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے پاکستان پر کیا اثر پڑے گا؟
آبنائے ہرمز سے پاکستان کی پیٹرولیم مصنوعات کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس کی بندش سے پاکستان میں توانائی کا شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے، اسی لیے پاکستان اس مسئلے کے حل کے لیے سب سے زیادہ فعال ہے۔
ٹرمپ کے 15 نکات کیا ہیں؟
ٹرمپ کے مطالبات میں ایران کا ایٹمی پروگرام ختم کرنا، بیلسٹک میزائلوں پر پابندی اور علاقائی پراکسیز کی حمایت سے دستبرداری شامل ہے۔
اسرائیل اس عمل میں کیا کردار ادا کر رہا ہے؟
اسرائیل فی الحال ان مذاکرات سے باہر ہے اور اس نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی کے لیے ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا، جو سفارتی کوششوں کے
لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں