کیا نیتزاہ یہودا بٹالین کی معطلی اسرائیلی فوج میں احتساب کی نئی روایت ہے؟
مغربی کنارے میں سی این این کے صحافیوں پر تشدد اور انہیں غیر قانونی طور پر حراست میں لینے کے واقعے نے اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) کے اخلاقی معیار پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اس واقعے کے محض 48 گھنٹوں کے اندر اسرائیلی چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر کی جانب سے پوری ریزرو بٹالین کو معطل کرنے کا فیصلہ غیر معمولی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ایک تادیبی کارروائی ہے بلکہ اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ اسرائیلی فوج کے اندر انتہا پسندانہ نظریات تیزی سے سرائیت کر رہے ہیں۔
سی این این پر حملہ: جب کیمرے کے سامنے انتقام کا اعتراف کیا گیا
گزشتہ جمعرات کو تیاسیر نامی فلسطینی گاؤں میں سی این این کے صحافی جیریمی ڈائمنڈ اور ان کی ٹیم ایک غیر قانونی چوکی پر آباد کاروں کے حملے کی کوریج کر رہی تھی۔ اس دوران نیتزاہ یہودا(Netzah Yehuda) کے فوجیوں نے نہ صرف ٹیم کو روکا بلکہ ایک فوٹو جرنلسٹ کا گلا دبا کر اسے زمین پر گرا دیا اور کیمرہ توڑ دیا۔ ویڈیو میں فوجیوں کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے ایک ساتھی کی ہلاکت کا انتقام لے رہے ہیں، جو کہ کسی بھی پیشہ ور فوج کے ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
سی این این کی ٹیم پر حملہ،اسرائیلی فوج کی پوری بٹالین معطلhttps://t.co/rve41Cdoxu#StockMarket #Islamabad #Baaghitv #PalmSunday
— Baaghi TV باغی ٹی وی (@BaaghiTV) March 30, 2026
نیتزاہ یہودا بٹالین: انتہا پسندی کا گڑھ؟
نیتزاہ یہودا بٹالین کو شروع میں انتہا پسند قدامت پسند یہودیوں (Ultra-Orthodox) کو فوج میں شامل کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ تاہم، حالیہ برسوں میں یہ بٹالین ہل ٹاپ یوتھ (Hilltop Youth) جیسے بنیاد پرست گروپوں کی آماجگاہ بن چکی ہے۔ ان فوجیوں پر ماضی میں بھی فلسطینیوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، تشدد اور قتل کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ حالیہ معطلی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ یونٹ ایک دفاعی فورس کے بجائے ایک نظریاتی گروہ کے طور پر کام کر رہا ہے۔
امریکی دباؤ اور اسرائیلی فوج کا ردِعمل
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ نیتزاہ یہودا سرخیوں میں ہے۔ 2024 میں بائیڈن انتظامیہ نے اس بٹالین پر پابندیاں لگانے پر غور کیا تھا، لیکن اسرائیل کی جانب سے اصلاحی اقدامات کی یقین دہانی پر یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ اب سی این این کی رپورٹ کے بعد فوری کارروائی کا مقصد بظاہر امریکہ کو یہ باور کرانا ہے کہ اسرائیل اپنے فوجیوں کا احتساب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، اسرائیل کے اندر انتہائی دائیں بازو کے وزراء، جیسے اتمار بن گویر، اس معطلی کو بڑی غلطی قرار دے رہے ہیں۔
کیا تربیت سے ذہنیت بدلی جا سکتی ہے؟
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس بٹالین کو مغربی کنارے سے نکال کر دوبارہ تربیت (Re-training) دی جائے گی تاکہ ان کی اخلاقی بنیادوں کو مضبوط کیا جا سکے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چند ہفتوں کی تربیت ان فوجیوں کی اس گہری نظریاتی سوچ کو بدل سکتی ہے جو وہ فلسطینی زمین پر قبضے اور انتقام کے بارے میں رکھتے ہیں؟ جب تک فوج کے اندر سیاسی مداخلت اور انتہا پسندانہ سوچ کا قلع قمع نہیں کیا جاتا، ایسے واقعات دوبارہ ہونے کا خدشہ برقرار رہے گا۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)
نیتزاہ یہودا بٹالین کو کیوں معطل کیا گیا؟
اس بٹالین کے فوجیوں نے سی این این (CNN) کی ٹیم پر حملہ کیا، ایک فوٹو جرنلسٹ کا گلا دبایا اور انہیں غیر قانونی طور پر حراست میں لیا۔ اسرائیلی فوج نے اسے پیشہ ورانہ اور اخلاقی ناکامی قرار دیتے ہوئے پوری بٹالین کو معطل کر دیا۔
اس واقعے میں ملوث فوجیوں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟
ایک فوجی (میئر) کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے، جبکہ بٹالین کمانڈر، کمپنی کمانڈر اور دیگر افسران کی سرزنش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فوجی پولیس واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کر رہی ہے۔
کیا امریکہ اس بٹالین پر پابندی لگا چکا ہے؟
2024 میں امریکہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اس یونٹ پر پابندیوں پر غور کیا تھا، لیکن اسرائیل کی جانب سے تحقیقات اور اصلاحات کے وعدے کے بعد یہ معاملہ مؤخر کر دیا گیا تھا۔
اسرائیلی سیاستدانوں کا اس پر کیا ردِعمل ہے؟
اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے اس فیصلے کو فوجیوں کے حوصلے پست کرنے والا قرار دیا ہے، جبکہ اپوزیشن رہنماؤں نے اسے دہشت گردی کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی ضرورت قرار دیا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں