سوڈان کے ہسپتال: جہاں مسیحا ہی مقتل بن گئے




سوڈان میں جاری خانہ جنگی اب انسانیت کی تمام حدیں پار کر چکی ہے۔ حالیہ سوڈان اسپتال حملہ، جس میں مشرقی دارفور کے الضعین ٹیچنگ اسپتال کو نشانہ بنایا گیا، محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک کھلم کھلا جنگی جرم ہے۔ اس حملے میں 64 افراد، بشمول 13 معصوم بچوں کی شہادت نے ثابت کر دیا ہے کہ اب سوڈان میں نہ گھر محفوظ ہیں اور نہ ہی شفا خانے۔ میرا ماننا ہے کہ جب تک عالمی طاقتیں صرف مذمتی بیانات کے پیچھے چھپتی رہیں گی، دارفور کی زمین اسی طرح معصوموں کے خون سے رنگتی رہے گی۔

الضعین ٹیچنگ اسپتال پر حملہ: کیا یہ صرف ایک تکنیکی غلطی تھی؟

الضعین کے مرکزی تعلیمی اسپتال پر ڈرون حملہ کوئی اتفاقیہ واقعہ نہیں ہو سکتا۔ جب زچگی اور بچوں کے وارڈز ملبے کا ڈھیر بن جائیں، تو اسے نشانہ چوک جانا کہنا مقتولین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ میری رائے میں، اسپتالوں کو غیر فعال کرنا ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے تاکہ عوام کو بنیادی طبی امداد سے محروم کر کے انہیں مکمل طور پر بے بس کر دیا جائے۔

دارفور میں جنگ اور صحت کے نظام کی مکمل تباہی

اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق سوڈان میں اب تک 40 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، لیکن اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ دارفور میں انسانی حقوق کی پامالی اب روز کا معمول بن چکی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب سوڈان کی معیشت اور ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، ایک فعال اسپتال کا ختم ہونا ہزاروں زخمیوں کے لیے موت کے پروانے پر دستخط کرنے جیسا ہے۔

سوڈان میں بچوں کی ہلاکتیں: کیا ہمارا مستقبل تاریک ہو رہا ہے؟

اس حملے میں 13 بچوں کی ہلاکت یہ تلخ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا جنگی جنون میں بچوں کا لہو اتنا ارزاں ہو گیا ہے؟ ڈبلیو ایچ او (WHO) کے سربراہ ٹیڈروس گیبریئسس نے درست کہا کہ امن ہی بہترین دوا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب تک بارود کی بو فضا میں رہے گی، کوئی دوا کام نہیں آئے گی۔ یہ حملہ سوڈان کے مستقبل پر حملہ ہے، کیونکہ جہاں بچے محفوظ نہ ہوں، وہاں قومیں پنپ نہیں سکتیں۔

فوج اور آر ایس ایف کی رسہ کشی: قیمت صرف عام شہری کیوں چکائے؟

سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان اقتدار کی یہ جنگ اب ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں اخلاقیات نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ فوج کا یہ دعویٰ کہ نشانہ قریب موجود پولیس اسٹیشن تھا، ایک کمزور عذر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ دونوں گروہ اپنی انا کی تسکین کے لیے ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، جو کہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

عالمی برادری کا کردار: خاموشی کب ٹوٹے گی؟


میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ صرف ٹویٹس اور بیانات سے زندگیاں نہیں بچائی جا سکتیں۔ جب تک سوڈان میں ہتھیاروں کی فراہمی پر سخت پابندیاں اور جنگی جرائم میں ملوث افراد کا محاسبہ نہیں ہوگا، الضعین جیسے واقعات دہرائے جاتے رہیں گے۔ دنیا کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ صرف تماشائی بنے رہنا چاہتی ہے یا واقعی انسانیت کو بچانا چاہتی ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

سوڈان اسپتال حملہ میں کتنی ہلاکتیں ہوئیں؟

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق الضعین ٹیچنگ اسپتال پر ہونے والے حملے میں کم از کم 64 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں 13 بچے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 89 افراد زخمی ہوئے ہیں اور اسپتال مکمل طور پر غیر فعال ہو چکا ہے۔

سوڈان میں اسپتالوں کو نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟

جنگ کے آغاز سے اب تک 2000 سے زائد افراد طبی مراکز پر حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ جنگی گروہوں کی جانب سے سویلین انفراسٹرکچر کو ڈھال بنانا اور مخالف فریق کو طبی لحاظ سے مفلوج کرنا ہے۔

کیا الضعین اسپتال پر حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول کی؟

آر ایس ایف نے اس حملے کا ذمہ دار سوڈانی فوج کو ٹھہرایا ہے، جبکہ فوج نے براہِ راست حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ہدف قریبی پولیس اسٹیشن تھا۔ تاحال کسی بھی آزاد ادارے نے اس کی حتمی تصدیق نہیں کی ہے۔

سوڈان کی خانہ جنگی کے انسانی صحت پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟

اس جنگ کی وجہ سے سوڈان کا 70 فیصد سے زائد طبی نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ اسپتالوں کی تباہی سے نہ صرف زخمیوں کا علاج ناممکن ہو گیا ہے بلکہ زچگی اور بچوں کی صحت کے حوالے سے ایک سنگین انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔










تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پاکستان کے کتنے صوبے ہیں؟

بہاولپور کے 10 بہترین اسکول برائے معیاری تعلیم

جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستانی اسکواڈ اور شیڈول جاری