کیا پاکستان کا میزائل پروگرام امریکی سرزمین کے لیے حقیقی خطرہ ہے؟
امریکی انٹیلیجنس کے اعلیٰ ترین عہدیدار کی حالیہ گواہی نے اسلام آباد اور واشنگٹن کے ایوانوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ نیشنل انٹیلیجنس کی ڈائریکٹر ٹیولسی گیبارڈ نے 2026 کی سالانہ تھریٹ اسیسمنٹ پیش کرتے ہوئے پاکستان کو روس، چین اور شمالی کوریا کی صف میں کھڑا کر دیا ہے۔ اس تنازع کی بنیاد یہ دعویٰ ہے کہ پاکستان کی میزائل صلاحیتیں اب امریکی سرزمین کے لیے براہ راست خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ جہاں امریکی انٹیلیجنس مستقبل کے خدشات دیکھ رہی ہے، وہیں پاکستانی حکام اسے تزویراتی حقیقت سے دور قرار دے رہے ہیں۔
ٹیولسی گیبارڈ کی 2026 کی رپورٹ: اصل حقائق کیا ہیں؟
سینیٹ انٹیلیجنس کمیٹی کے سامنے اپنی گواہی میں ٹیولسی گیبارڈ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان جدید ڈیلیوری سسٹمز پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اگر بیلسٹک میزائلوں کی ترقی کا یہی سلسلہ جاری رہا تو پاکستان جلد ہی ایسے انٹر کانٹینینٹل بیلسٹک میزائل (ICBMs) بنانے کے قابل ہو جائے گا جو امریکہ تک مار کر سکیں۔ اس رپورٹ نے پاکستان کو ایک علاقائی سیکیورٹی خدشے سے نکال کر امریکہ کے لیے براہ راست خطرہ بنا دیا ہے، جس کے دور رس سفارتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
میزائلوں کی پہنچ کا تجزیہ: کیا پاکستانی میزائل واقعی امریکہ پہنچ سکتے ہیں؟
اس دعوے کی حقیقت جاننے کے لیے اعداد و شمار کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس وقت پاکستان کا سب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والا آپریشنل میزائل شاہین-III ہے، جس کی رینج تقریباً 2,750 کلومیٹر ہے۔
اسلام آباد اور امریکی سرزمین کے درمیان فاصلہ 11,000 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ علاقائی رینج کے میزائل سے 12,000 کلومیٹر کے آئی سی بی ایم (ICBM) تک کا سفر ایک دہائی پر محیط انجینئرنگ کا کام ہے، جس کا پاکستان نے ابھی تک کوئی عوامی ارادہ ظاہر نہیں کیا۔
بھارت بمقابلہ عالمی طاقت: پاکستان کا تزویراتی نظریہ
واشنگٹن کی تشویش کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ طویل فاصلے کے میزائل کا مطلب بین الاقوامی مداخلت کو روکنا ہے۔ تاہم، اسلام آباد کا موقف ہے کہ اس کا نظریہ صرف بھارت کے خلاف "کم از کم دفاعی صلاحیت" (Credible Minimum Deterrence) برقرار رکھنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان کی میزائل ترقی کا مقصد نیویارک تک پہنچنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ بھارت کا کوئی بھی گوشہ اس کی جوابی کارروائی سے باہر نہ رہے۔
جغرافیائی سیاست: امریکہ اب یہ شور کیوں مچا رہا ہے؟
ان دعووں کا وقت انتہائی دلچسپ ہے۔ 2025 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کے باوجود، امریکی انٹیلیجنس ابھی تک محتاط ہے۔ اس تناؤ کی ممکنہ وجوہات درج ذیل ہو سکتی ہیں:
پابندیاں: پاکستان کے نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس پر حالیہ امریکی پابندیاں۔
ٹیکنالوجی کا حصول: میزائل ٹیسٹنگ کے آلات کی خریداری پر امریکی تحفظات۔
علاقائی عدم استحکام: یہ خوف کہ مستقبل کا پاک بھارت بحران جنوبی ایشیا کی حدود سے باہر نکل سکتا ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)
پاکستان کے میزائلوں کی موجودہ رینج کتنی ہے؟
پاکستان کے سب سے طویل فاصلے کے میزائل شاہین-III کی رینج 2,750 کلومیٹر ہے، جو بھارت کے تمام حصوں تک پہنچنے کے لیے کافی ہے لیکن امریکہ سے بہت دور ہے۔
ٹیولسی گیبارڈ نے پاکستان کو امریکہ کے لیے خطرہ کیوں قرار دیا؟
ان کے مطابق پاکستان کی جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی کوششیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ مستقبل میں وہ ایسے میزائل بنا سکتا ہے جو امریکی سرزمین تک پہنچ سکیں۔
پاکستان کے "کم از کم دفاعی صلاحیت" (Minimum Deterrence) سے کیا مراد ہے؟
اس کا مطلب ہے کہ پاکستان صرف اتنی ایٹمی اور میزائل طاقت رکھنا چاہتا ہے جو کسی بھی دشمن (خاص طور پر بھارت) کو حملے سے روکنے کے لیے کافی ہو۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں