الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) نے خیبر پختونخوا کے
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف انتخابی ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی کے اہم کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ نے منگل کو فریقین کے حتمی دلائل سننے کے بعد سماعت مکمل کر لی۔ یہ مقدمہ انتخابی عملے کو دھمکانے اور ان پر دباؤ ڈالنے کے الزامات سے متعلق ہے۔
دھمکیوں کا الزام کیسے سامنے آیا؟
یہ معاملہ حلقہ این اے 18 ہری پور میں ضمنی انتخابات سے قبل حویلیاں، ایبٹ آباد میں ہونے والے ایک سیاسی جلسے سے شروع ہوا۔ الزام ہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں انتخابی عملے کو خبردار کیا کہ اگر دھاندلی ہوئی تو انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ الیکشن کمیشن نے ان بیانات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے قرار دیا کہ یہ محض سیاسی بیان نہیں بلکہ انتخابی افسران اور ضلعی انتظامیہ کو دباؤ میں لانے کی کوشش تھی، جو انتخابی مدت میں آئینی طور پر کمیشن کے ماتحت ہوتے ہیں۔
سماعت کے دوران کیا دلائل دیے گئے؟
الیکشن کمیشن کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ انتخابی عملے کا تحفظ کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے اور کسی بھی قسم کی دھمکی دراصل کمیشن کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق سخت کارروائی ضروری ہے تاکہ انتخابی عمل کی شفافیت اور تقدس برقرار رہے۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ کے وکیل علی بخاری نے مؤقف اپنایا کہ ان کے مؤکل نے صرف سیاسی انداز میں گفتگو کی اور کسی کو ڈرانے کا ارادہ نہیں تھا۔ انہوں نے کمیشن پر جانبداری کا الزام بھی عائد کیا اور مؤقف دیا کہ اسی نوعیت کے ایک کیس میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے خلاف درخواست مسترد کی گئی تھی، جبکہ یہاں کارروائی کی جا رہی ہے۔
کمیشن کا مؤقف کیا تھا؟
بینچ نے دونوں معاملات کا تقابل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کا کیس ترقیاتی منصوبوں کے اعلان سے متعلق تھا، جبکہ موجودہ کیس براہ راست دھمکیوں سے متعلق ہے، جن میں جان کے خطرے جیسے الفاظ بھی شامل تھے۔ چیف الیکشن کمشنر نے تعصب کے الزام کو بھی رد کیا اور یاد دلایا کہ ماضی میں بعض مقدمات میں پی ٹی آئی کے حق میں فیصلے بھی دیے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بطور وزیر اعلیٰ دیے گئے بیانات کی ذمہ داری عہدے کے مطابق طے کی جائے گی، چاہے وہ عوامی جلسے میں دیے گئے ہوں یا کسی اور مقام پر۔
اہم سوالات کے مختصر جوابات
یہ کیس کیوں دائر کیا گیا؟
سیاسی جلسے میں انتخابی عملے کو مبینہ دھمکیاں دینے اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزام پر۔
سماعت کی سربراہی کس نے کی؟
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے پانچ رکنی بینچ کی قیادت کی۔
دفاع کا مؤقف کیا تھا؟
دفاع کے مطابق تقریر سیاسی نوعیت کی تھی اور کمیشن کا رویہ جانبدارانہ ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں