حکومت کا نیٹ میٹرنگ ختم کرنے اور نئے سولر بلنگ سسٹم متعارف کروانے کا منصوبہ
وفاقی حکومت نے سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ نظام ختم کر کے اس کی جگہ گراس بلنگ پالیسی نافذ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے پاور ریگولیٹر نیپرا نے نئے سولر بلنگ سسٹم کے ڈرافٹ قواعد جاری کر دیے ہیں۔
حیران کن طور پر نیپرا نے اس بار عوامی سماعت کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی، جو ایک غیر معمولی اقدام ہے۔ اگر یہ پالیسی نافذ ہو جاتی ہے تو پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہو جائے گا جو صرف دس برس کے اندر نیٹ میٹرنگ ختم کر رہے ہیں، جبکہ دنیا کے بیشتر ممالک اس وقت سولر توانائی کے فروغ کے لیے مزید سہولتیں فراہم کر رہے ہیں، حتیٰ کہ بعض جگہوں پر صارفین کو بجلی براہِ راست پڑوسیوں کو فروخت کرنے کی اجازت بھی حاصل ہے۔
موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام کے تحت گھروں، دکانوں اور دفاتر میں نصب سولر پینلز دن کے وقت پیدا ہونے والی اضافی بجلی قومی گرڈ میں شامل کر دیتے ہیں، اور ضرورت کے وقت اتنے ہی یونٹس واپس لے لیتے ہیں۔ امپورٹ اور ایکسپورٹ یونٹس ایک ہی نرخ پر ایڈجسٹ ہونے کے باعث یہ نظام لاکھوں صارفین کے لیے پرکشش رہا ہے، خاص طور پر وہ افراد جو بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں سے پریشان ہیں۔
وزارتِ توانائی کا مؤقف ہے کہ نیٹ میٹرنگ کی وجہ سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے اور گرڈ کے اخراجات پورے نہیں ہو پا رہے۔ تاہم 18 نومبر 2025 کو سی پی پی اے کے سی ای او ریحان اختر نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ اگرچہ سولر پاور کی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن اس سے قومی گرڈ پر غیر معمولی دباؤ نہیں پڑا۔ ان کے مطابق سولر صارفین بجلی تو زیادہ استعمال کر رہے ہیں، مگر گرڈ سے ان کی مجموعی کھپت میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ حکومتی سطح پر ناقص منصوبہ بندی ہے، جس کے باعث ریاست کو غیر استعمال شدہ بجلی کے لیے بھاری کیپیسٹی پیمنٹس کرنا پڑ رہی ہیں۔ ان بنیادی مسائل کو حل کرنے کے بجائے اب اس کا بوجھ سولر صارفین پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ نیٹ میٹرنگ کے خاتمے سے سولر تنصیبات کی رفتار سست پڑ جائے گی اور پاکستان کے موسمیاتی اہداف متاثر ہوں گے، جبکہ وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی اس معاملے پر خاموش ہے۔
مجوزہ گراس بلنگ نظام کے تحت صارفین کو گرڈ سے حاصل کی جانے والی بجلی قومی ٹیرف کے مطابق تقریباً 55 سے 65 روپے فی یونٹ ادا کرنا ہوں گے، جبکہ سولر سسٹمز سے گرڈ میں دی جانے والی بجلی صرف تقریباً 9 روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدی جائے گی، جو موجودہ 24 روپے فی یونٹ کی شرح سے کہیں کم ہے۔ اس نظام میں امپورٹ اور ایکسپورٹ یونٹس الگ الگ شمار ہوں گے، جس سے صارفین یونٹ ایڈجسٹمنٹ کے فائدے سے محروم ہو جائیں گے۔
تشویش یہ بھی ہے کہ حکومت بڑے بجلی پیدا کرنے والوں سے طویل مدت تک مہنگی بجلی خریدتی رہے گی، جبکہ عام سولر صارفین کو مجبوراً بجلی ذخیرہ کرنے کے لیے مہنگی بیٹریاں نصب کرنا پڑیں گی، کیونکہ وہ اپنی اضافی بجلی مناسب قیمت پر گرڈ کو فروخت نہیں کر سکیں گے۔ اس سے بیٹریوں کی درآمد میں اضافہ ہوگا اور زرمبادلہ پر مزید دباؤ پڑے گا۔
ممکنہ حل کے طور پر تجویز دی جا رہی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف مداخلت کرتے ہوئے نیٹ میٹرنگ نظام میں مجوزہ تبدیلی روکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک جامع قومی کاربن ایمیشن پالیسی متعارف کروائی جائے، جس کے تحت سولر صارفین اپنے کاربن کریڈٹس بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو منتقل کر سکیں، جو انہیں بین الاقوامی منڈی میں فروخت کریں۔
مزید یہ کہ بڑے شہروں میں ڈیجیٹل الیکٹریسٹی یونٹس ٹرسٹس (DEUT) قائم کیے جائیں، جن کے ذریعے سولر صارفین اضافی بجلی کے یونٹس عطیہ کر سکیں، تاکہ یہ توانائی مستحق گھرانوں، بالخصوص بیواؤں تک پہنچائی جا سکے۔
.png)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں