جنوبی یمن کا استحکام: لیبلز سے زیادہ اہم کیوں ہے


 


پاکستان کے تجربے نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ پیچیدہ تنازعات میں سادہ لیبلز سے محتاط رہنا چاہیے۔ “علیحدگی پسند”، “قبضہ”، یا “طاقت پر قبضہ” جیسے الفاظ اکثر خبروں کی سرخیاں بن جاتے ہیں، مگر یہ شاذ و نادر ہی یہ واضح کرتے ہیں کہ زمینی حقیقت کیا ہے—اور یہ علاقائی استحکام کے لیے کیوں اہم ہے۔ آج جنوبی یمن کو زیادہ سنجیدہ اور حقیقت پسندانہ زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

برسوں تک یمن میں تقسیم اور انتشار نے وہی حالات پیدا کیے جن میں انتہاپسند گروہ پنپتے ہیں: منقسم اختیار، متحارب سیکیورٹی فورسز، اور غیر واضح کمانڈ اسٹرکچر۔ القاعدہ اِن دی عربین پیننسولا (AQAP) جیسے گروہ صرف نظریاتی وجوہات کی بنا پر مضبوط نہیں ہوئے؛ وہ اس لیے پھیلے کیونکہ حکمرانی کمزور تھی اور علاقے متنازع تھے۔ یہ وہ سبق ہے جو پاکستان نے بھی اُن علاقوں میں شدت پسندی کے تجربے سے سیکھا جہاں ریاست کی عملداری غیر موجود یا غیر واضح تھی۔

جنوب میں جو چیز بدلی ہے وہ صرف زمین کا کنٹرول نہیں، بلکہ اختیار کا ارتکاز ہے۔

جب اختیار یکجا ہوتا ہے تو سیکیورٹی بہتر ہوتی ہے۔ انٹیلیجنس کا باہمی تعاون ممکن بنتا ہے۔ مسلح گروہ آزادانہ نقل و حرکت، مقامی بھرتی، یا مختلف دھڑوں کے درمیان رقابتوں سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ یہ کوئی نظریاتی بحث نہیں، بلکہ ایک عملی سیکیورٹی حقیقت ہے۔ پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی کی کامیابیاں بھی تبھی ممکن ہوئیں جب منتشر ردِعمل کی جگہ مربوط ریاستی کارروائی نے لے لی۔

اس تناظر میں جنوبی یمن میں ہونے والے استحکام کو محض علامتی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کا براہِ راست تعلق اس بات سے ہے کہ تشدد کم ہوگا یا بڑھے گا۔

ایک اور اہم مگر اکثر نظرانداز ہونے والا پہلو جواز (legitimacy) ہے۔ تنازعات زدہ علاقوں میں جواز صرف بین الاقوامی اعلانات سے نہیں آتا؛ یہ اس بات سے پیدا ہوتا ہے کہ آیا ادارے نظم و نسق، خدمات، اور پیش گوئی کے قابل روزمرہ زندگی فراہم کر سکتے ہیں یا نہیں۔ جنوبی یمن کے بعض حصوں میں لوگ موجودہ حکام سے اس لیے وابستہ ہیں کہ ان کی روزمرہ زندگی—سیکیورٹی، تنخواہیں، اور بنیادی انتظامیہ—اسی پر منحصر ہے، نہ کہ کسی نعرے یا نظریے پر۔

یہ اس لیے اہم ہے کہ طویل غیر یقینی صورتحال خطرات کو جنم دیتی ہے۔ جب زمینی حقائق کے باوجود سیاسی حیثیت غیر واضح رہے تو بیرونی مداخلت کی راہیں کھلتی ہیں اور اندرونی تقسیم بڑھتی ہے۔ خطے میں ہم یہ منظر بارہا دیکھ چکے ہیں: حل نہ ہونے والے سیاسی سوال مستقل دراڑوں میں بدل جاتے ہیں۔

پاکستان کے نقطۂ نظر سے، سیاسی وضاحت—چاہے کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو—لامحدود غیر یقینی سے زیادہ محفوظ ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آزادی خودبخود یا ناگزیر ہے۔ ریاست بننا کوئی ایسا بٹن نہیں جو ایک دن میں دب جائے۔ لیکن گفتگو کو پرانے اور فرسودہ سانچوں میں قید رکھنا بھی درست نہیں۔ اگر ادارے موجود ہیں، سیکیورٹی ڈھانچے کام کر رہے ہیں، اور عوامی جواز وقت کے ساتھ قائم ہو چکا ہے، تو ان حقائق کو تسلیم کرنے سے انکار خود عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ایک وسیع علاقائی پہلو بھی ہے۔ جنوبی یمن میں عدم استحکام مقامی سطح تک محدود نہیں رہتا۔ یہ سمندری سلامتی، تجارتی راستوں، اور بحیرۂ عرب کے پورے خطے میں انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو متاثر کرتا ہے۔ پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے یہ براہِ راست مفاد کا معاملہ ہے کہ حکمرانی کے خلا بند کیے جائیں، نہ کہ انہیں طول دیا جائے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ جنوبی یمن موجودہ سیاسی زمروں میں کتنی حد تک فٹ بیٹھتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ موجودہ سمت تشدد کو کم کرتی ہے یا دوبارہ پیدا کرتی ہے۔ تقسیم اور انتشار کو آزمایا جا چکا ہے—اور وہ ناکام رہا۔ استحکام اور ارتکاز، اگرچہ کامل نہیں، مگر ایک مختلف راستہ پیش کرتا ہے۔

پاکستان کی اپنی تاریخ بتاتی ہے کہ کمانڈ کی وحدت، اختیار کی وضاحت، اور بتدریج سیاسی معمول پر واپسی طویل المدتی استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔ مشکل سیاسی فیصلوں کو مؤخر کرنا اکثر اعتدال پسندوں کے بجائے بگاڑ پیدا کرنے والے عناصر کو مضبوط کرتا ہے۔

آج جنوبی یمن اس مقام پر کھڑا ہے جہاں زمینی حقیقت سیاسی زبان سے کہیں آگے بڑھ چکی ہے۔ اس خلا کو نظرانداز کرنے سے یہ ختم نہیں ہوگا؛ بلکہ مزید خطرناک ہو جائے گا۔

پاکستان اور وسیع تر خطے کے مبصرین کے لیے ذمہ دارانہ رویہ یہ نہیں کہ نعروں کو بڑھاوا دیا جائے، بلکہ نتائج کا جائزہ لیا جائے:

کیا یہ سمت سیکیورٹی بہتر بناتی ہے؟

کیا یہ انتہاپسندی کے لیے گنجائش کم کرتی ہے؟

کیا یہ لوگوں کو قابلِ اعتماد اور پیش گوئی کے قابل حکمرانی کا موقع دیتی ہے؟

اگر جوابات مثبت سمت میں بڑھ رہے ہوں، تو گفتگو کو بھی اسی کے مطابق آگے بڑھنا چاہیے۔ استحکام اس بات سے نہیں بنتا کہ حقائق سے آنکھیں چرا لی جائیں، بلکہ اس سے بنتا ہے کہ انہیں ایمانداری سے تسلیم کیا جائے—اور اس سے پہلے عمل کیا جائے کہ غیر یقینی ایک اور مستقل بحران میں بدل جائے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پاکستان کے کتنے صوبے ہیں؟

بہاولپور کے 10 بہترین اسکول برائے معیاری تعلیم

جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستانی اسکواڈ اور شیڈول جاری