سونا کا ریٹ – پاکستان (22 ستمبر 2025)
پاکستان میں سونے کی قیمت مستحکم، تازہ نرخ جاری
پاکستان میں سونے کی قیمت بدستور مستحکم ہے۔ خریدار اور سرمایہ کار آج (22 ستمبر 2025) کے تازہ نرخ یہاں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
تازہ ترین سونے کی قیمتیں (22 ستمبر 2025)
-
فی تولہ (24 قیراط): روپے 388,800
-
10 گرام (24 قیراط): روپے 333,339.1
-
1 گرام (24 قیراط): روپے 33,333.9
-
1 اونس (24 قیراط): روپے 1,041,800.6
قیراط کے حساب سے سونے کی قیمتیں
| سونے کی قسم | فی تولہ | فی گرام | فی 10 گرام | فی اونس |
|---|---|---|---|---|
| 24 قیراط | روپے 388,800 | روپے 33,334 | روپے 333,340 | روپے 944,784 |
| 22 قیراط | روپے 356,400 | روپے 30,556 | روپے 305,562 | روپے 866,052 |
| 21 قیراط | روپے 340,200 | روپے 29,167 | روپے 291,673 | روپے 826,686 |
| 18 قیراط | روپے 291,600 | روپے 25,001 | روپے 250,005 | روپے 708,588 |
سونے کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کیوں آتا ہے؟
دنیا بھر میں سونا نہ صرف زیورات کی تیاری کے لیے استعمال ہوتا ہے بلکہ یہ ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ سونے کی قیمت میں روزانہ تبدیلی کئی عالمی عوامل کی بنیاد پر ہوتی ہے:
1. شرحِ سود (Interest Rate):
جب شرحِ سود بڑھتی ہے تو سرمایہ کار سونے سے دور ہوتے ہیں کیونکہ دیگر مالیاتی ذرائع زیادہ منافع دیتے ہیں۔ جب شرحِ سود کم ہوتی ہے، تو سونے کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔
2. مہنگائی اور اقتصادی غیر یقینی صورتحال:
افراطِ زر یا مالی بحران کی صورت میں لوگ سونے کو محفوظ سرمایہ سمجھ کر خریدتے ہیں، جس سے اس کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔
3. امریکی ڈالر کی قدر:
سونے کی عالمی تجارت امریکی ڈالر میں ہوتی ہے۔ اگر ڈالر مضبوط ہو تو سونا مہنگا پڑتا ہے اور اس کی طلب کم ہو جاتی ہے۔ برعکس صورت میں، جب ڈالر کمزور ہو، تو سونے کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔
4. زیورات کی طلب:
بھارت اور مشرق وسطیٰ جیسے بڑے زیورات کے بازار جب زیادہ خریداری کرتے ہیں تو سونے کی عالمی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔
5. عالمی سیاسی و معاشی حالات:
جنگ، تنازعات یا عالمی مالی بحران کے دوران سرمایہ کار سونے کو محفوظ پناہ گاہ سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے قیمت بڑھتی ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں