حمیرا اصغر نے موت سے پہلے کس سے مدد مانگی؟ تفتیش میں بڑا انکشاف

اداکارہ حمیرا اصغر کی پراسرار موت: حقیقت کی تلاش جاری

کراچی کی معروف ماڈل اور اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ان کے فلیٹ سے پراسرار حالت میں برآمد ہوئی ہے، اور تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کی موت قدرتی تھی، حادثہ، خودکشی یا کسی مجرمانہ کارروائی کا نتیجہ۔

ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حمیرا اصغر گزشتہ چند مہینوں سے شدید مالی مسائل کا شکار تھیں۔ 7 اکتوبر 2024 کو انہوں نے واٹس ایپ پر تقریباً 10 افراد کو ایک مختصر پیغام بھیجا، جس میں کہا گیا تھا:

"ہیلو، میں آپ سے بات کرنا چاہتی ہوں"

ان افراد میں ان کے بھائی سلمان بھی شامل تھے، لیکن افسوس کہ کسی نے بھی جواب نہ دیا۔

ذرائع کے مطابق حمیرا نے اپنے قریبی جاننے والوں سے مالی امداد کی درخواست بھی کی تھی، مگر کوئی ان کی فریاد پر کان نہ دھرسکا۔

تحقیقات کرنے والی خصوصی ٹیم اب تک 63 افراد سے پوچھ گچھ کر چکی ہے۔ ان کا فون، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ قبضے میں لے کر تجزیے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ ان کے پاس ورڈز ان کی ذاتی ڈائری سے حاصل کیے گئے۔

موقع پر نہ کوئی دوا ملی، نہ ہی کوئی زہریلا مواد۔ ان کے ہاتھ سینے پر رکھے ہوئے تھے۔ ان کے جم انسٹرکٹر کے مطابق وہ روزانہ تین گھنٹے سخت ورزش کرتی تھیں۔

8 جولائی 2025 کو گِزری پولیس اور عدالتی بیلف نے ان کے فلیٹ کا دروازہ توڑا۔ وہ اپریل 2024 سے کرایہ ادا نہیں کر رہی تھیں، جس پر مالک مکان نے انہیں خالی کرنے کا نوٹس دیا تھا۔

پڑوسیوں نے فلیٹ سے آنے والی بدبو کی شکایت کی تھی، لیکن چونکہ ساتھ والا فلیٹ فروری 2025 تک خالی رہا، اس لیے کسی نے فوری توجہ نہیں دی۔

جب حکام اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ مرکزی دروازہ اور بالکونی اندر سے بند تھے۔ اندر کوئی اور موجود نہ تھا۔ حمیرا بالکل تنہا دم توڑ چکی تھیں۔

فی الحال حکام اس افسوسناک اور تنہائی میں گزر جانے والی موت کی اصل حقیقت جاننے کے لیے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔


 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پاکستان کے کتنے صوبے ہیں؟

بہاولپور کے 10 بہترین اسکول برائے معیاری تعلیم

جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستانی اسکواڈ اور شیڈول جاری