ڈونلڈ ٹرمپ کا رواں سال ستمبر میں دورۂ پاکستان متوقع
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ستمبر 2025 میں ممکنہ دورہ پاکستان، بھارت کا بھی دورہ متوقع
باخبر ذرائع کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ستمبر 2025 میں پاکستان کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دورہ 18 ستمبر کو متوقع ہے اور یہ ان کے جنوبی ایشیائی ممالک کے طے شدہ دورے کا حصہ ہوگا، جس میں بھارت کا دورہ بھی شامل ہے۔
اس ممکنہ پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے اسے خوش آئند قرار دیا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک اس دورے کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا:
"امریکی صدر کے دورے کی تصدیق دفتر خارجہ کرے گا، جب یہ منصوبہ حتمی طور پر طے پا جائے گا۔"
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ صدر ٹرمپ نے مئی 2025 میں پاک-بھارت کشیدگی کے بعد یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کی انتظامیہ نے دونوں ممالک کے درمیان ایک ممکنہ ایٹمی تصادم کو روکنے میں کردار ادا کیا۔
13 مئی کو وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا:
"ہفتے کے دن میری انتظامیہ نے ایک مکمل اور فوری جنگ بندی کرانے میں مدد کی، اور میرا ماننا ہے کہ یہ ایک مستقل جنگ بندی ثابت ہوگی جو دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ایک خطرناک تصادم کے خاتمے کا باعث بنے گی۔"
انہوں نے مزید کہا:
"صورتحال تیزی سے بگڑ رہی تھی اور رکنے کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا تھا۔ میں یہ کہتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہوں کہ بھارت اور پاکستان کی قیادت نے معاملے کی سنگینی کو سمجھا اور زبردست حکمت اور حوصلے کا مظاہرہ کیا۔"
صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی متعدد مواقع پر زور دے چکے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کو کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔ اگر ان کا مجوزہ دورۂ پاکستان عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اسے جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور سفارتی روابط کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا سکتا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں