پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر غلام سرور کو خلیفہ انٹرنیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا ہے
پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر غلام سرور کو خلیفہ انٹرنیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا
پاکستان نے زرعی شعبے میں ایک قابل فخر کامیابی حاصل کی ہے۔ شاہ لطیف یونیورسٹی خیرپور سندھ سے تعلق رکھنے والے ممتاز محقق ڈاکٹر غلام سرور مارکھنڈ کو متحدہ عرب امارات میں عالمی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ انہیں "خلیفہ انٹرنیشنل ایوارڈ برائے ڈیٹ پام اور زرعی ترقی" کے تحت بااثر شخصیت کے زمرے میں یہ اعزاز دیا گیا۔ یہ ایوارڈ ابوظہبی کے مشہور ایمریٹس پیلس میں ایک شاندار تقریب کے دوران پیش کیا گیا، جس میں 66 ممالک کے نمائندے شریک ہوئے۔ اس موقع پر دنیا بھر میں پائیدار زراعت اور جدید تحقیق کی اہمیت کو سراہا گیا۔ ڈاکٹر غلام سرور مارکھنڈ کی یہ کامیابی پاکستان کے زرعی تحقیقی میدان میں ایک بین الاقوامی شناخت کو اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے 28 ممالک سے آئے 180 سے زائد محققین کو پیچھے چھوڑتے ہوئے یہ اعزاز حاصل کیا۔
اس ایوارڈ کے موقع پر پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان زرعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر بھی دستخط کیے گئے۔ یہ معاہدہ پاکستان میں دوسرا انٹرنیشنل ڈیٹ پام فیسٹیول 2025 کے انعقاد اور پائیدار کھیتی باڑی کو فروغ دینے کے لیے طے پایا۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین اور خلیفہ انٹرنیشنل ایوارڈ کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالوہاب زید نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کا مقصد کھجور کی پیداوار میں اضافہ، نئی اقسام کا تعارف اور پاکستان کی برآمدات کو فروغ دینا ہے۔ رانا تنویر حسین نے اس تعاون کو پاکستان کی زرعی ترقی اور ماحولیاتی چیلنجز جیسے خوراک کی کمی اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی کوششوں کا عکاس قرار دیا۔
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ نہیان مبارک النہیان نے زرعی جدت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرنے والے عالمی ماہرین کی خدمات کو سراہا۔ پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی کو بھی دونوں ممالک کے درمیان زرعی اور سفارتی تعلقات کو مستحکم کرنے پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔ یہ تقریب متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زاید النہیان کی سرپرستی میں منعقد ہوئی، جس کا مقصد عالمی سطح پر کھجور کی صنعت اور پائیدار زراعت کو فروغ دینا تھا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں