سانحہ 9 مئی: 60 مزید شہریوں کو فوجی عدالتوں سے سزا
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ فوجی عدالتوں نے 9 مئی کے واقعات کے دوران فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث مزید 60 افراد کو 2 سے 10 سال قید کی سزائیں سنائی ہیں۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ایک ہفتہ قبل ہی فوجی عدالتوں نے انہی واقعات کے تحت 25 شہریوں کو سزا دی تھی۔
اہم تفصیلات:
- اب تک 85 افراد کو سزا دی جا چکی ہے، جو سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے سے مشروط ہیں۔
- عمران خان کے بھتیجے حسن نیازی کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
- سزا یافتہ تمام افراد اپیل اور دیگر قانونی راستوں کا حق رکھتے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، سزا یافتہ افراد کے خلاف تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔
بیان میں کہا گیا:
“تمام فیصلے آئین اور قانون کے تحت کیے گئے ہیں۔ سزا یافتہ افراد کو اپیل اور دیگر قانونی حقوق حاصل ہیں، جیسا کہ آئین میں درج ہے۔”
سپریم کورٹ کی مشروط اجازت:
سپریم کورٹ کے سات رکنی آئینی بینچ نے اس ماہ فوجی عدالتوں کو 9 مئی کے واقعات میں گرفتار 85 افراد کے خلاف فیصلے سنانے کی مشروط اجازت دی تھی۔ حکم کے مطابق، سزا یافتہ افراد جنہیں معاف کیا جا سکتا ہے، انہیں فوراً رہا کیا جائے گا، جبکہ باقی کو جیل حکام کے حوالے کیا جائے گا۔
سزاؤں کی تفصیل:
- 2 افراد کو 10 سال قید
- 10 افراد کو 9 سال قید
- 1 فرد کو 8 سال قید
- 8 افراد کو 6 سال قید
- 11 افراد کو 4 سال قید
- 20 افراد کو 2 سال قید
9 مئی کے فسادات کا پس منظر:
- فسادات کے دوران 40 سے زائد سرکاری اور فوجی عمارتوں کو نقصان پہنچا، جن میں جی ایچ کیو، جناح ہاؤس، اور عسکری ٹاور شامل ہیں۔
- تشدد کے 62 مختلف واقعات میں ملک کو 2.5 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
- حکومت کے مطابق، 1.98 ارب روپے کا نقصان فوج نے برداشت کیا۔
- فوجی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے پی ٹی آئی قیادت کے منصوبے کا حصہ تھے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں