جج نے ایمان مزاری کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
ایک اہم پیش رفت میں، اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما علی وزیر اور انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ یہ اقدام بغاوت، دھمکی اور اکسانے سے متعلق الزامات کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جو پی ٹی ایم کی حالیہ عوامی ریلی میں ان کی متنازعہ تقریروں سے پیدا ہوا ہے۔
گرفتاری اور قانونی کارروائی
ایمان مزاری اور علی وزیر کو اسلام آباد پولیس نے اتوار کی صبح ان کے خلاف مقدمات کے اندراج کے بعد گرفتار کیا تھا۔ پولیس نے اسی دن مقامی عدالت سے ان کا ریمانڈ حاصل کیا، اور انہیں مزید کارروائی کے لیے اے ٹی سی کے سامنے پیش کیا گیا۔
ایمان مزاری کی بھوک ہڑتال
ایمان مزاری کی عدالت آمد پر ان کی والدہ شیریں مزاری کے ساتھ جذباتی انداز میں گلے ملے۔ ایمان نے بتایا کہ اس نے بھوک ہڑتال شروع کی تھی، اور اس نے اپنی حراست کے دوران پوچھ گچھ نہ ہونے پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔ اس کے وکیل نے دلیل دی کہ اس کے خلاف ابھی تک کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
قانونی دلائل
سماعت کے دوران ایمان مزاری کی قانونی ٹیم نے متعلقہ سوالات اٹھائے۔ انہوں نے ثبوت کی عدم موجودگی، فوٹو گرافی اور وائس میچنگ جیسے ٹیسٹ کی ضرورت اور سوشل میڈیا، لیپ ٹاپ اور موبائل فونز پر پولیس کی جانب سے اس کی تقریر کے قبضے کے بارے میں استفسار کیا۔ ٹیم نے ایمان سے اس کے بیہوش ہونے کے واقعہ اور پولیس اسٹیشن میں اس سے ملنے کی ناکامی کی وجہ سے ملنے کی اجازت بھی مانگی۔
علی وزیر کے بیانات
علی وزیر نے موقف اختیار کیا اور کہا کہ ریلی کے دوران کوئی قابل اعتراض بات نہیں کی گئی۔ انہوں نے ایک موقع پر جج کو "مسٹر سپیکر” کہا۔ انہوں نے روشنی ڈالی کہ ان کا مقصد اسلام آباد کو پیغام دینا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں