نو مئی واقعات پر فوج نے تین اعلی افسران کو ہٹا دیا
پاک فوج نے ایک لیفٹیننٹ جنرل سمیت تین سینئر افسران کو برطرف کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 9 مئی کو فسادیوں کو فوجی تنصیبات پر توڑ پھوڑ سے روکنے میں ناکامی پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے پیر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئۓ کہا کہ تین افسران کو برطرف کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر 15 فوجی افراد کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کی گئی ہے جن میں تین میجر جنرلز اور سات بریگیڈیئرز بھی شامل ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ فوج نے 9 مئی کو پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں اپنی تحقیقات مکمل کر لی ہیں جس کے بعد ایک لیفٹیننٹ جنرل اور تین میجر جنرلز سمیت 18 افسران کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
فوج کے ترجمان نے کہا کہ 9 مئی کو مختلف گیریژنوں میں تشدد کے واقعات کی دو جامع ادارہ جاتی تحقیقات کی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انکوائریوں کی صدارت میجر جنرل کے عہدے کے افسران نے کی۔
حفاظت میں ناکام رہنے والے اہلکاروں کے خلاف کاروائی
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ان اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی گئی ہے جو گیریژنز اور جناح ہاؤس کی حفاظت کرنے میں ناکام رہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق چھاؤنیوں، فوجی تنصیبات، جی ایچ کیو اور جناح ہاؤس کی سیکیورٹی اور تقدس برقرار رکھنے میں ناکام رہنے والے اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق اس حوالے سے فوج کے اندر دو انکوائریاں کی گئیں جس کے بعد تفصیلی کورٹ آف انکوائری میں فیصلہ کیا گیا کہ لیفٹیننٹ جنرل سمیت تین افسران کو ملازمتوں سے برطرف کیا جائے۔
تین میجر جنرلز اور سات بریگیڈیئرز سمیت 15 افسران کے خلاف بھی سخت تادیبی کارروائی کی گئی۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں